سگریٹ نوش مریضوں پر کوروناوائرس کے حملوں کی شدت کمزور

https://bit.ly/3bpLE5p


ایک سائنسی تحقیق کے تجزیہ سے یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں کورونا وائرس اتنے سنگین اور مہلک اثرات مرتب نہیں کررہا جتناکہ سمجھا جارہا تھا۔
برطانوی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے یونیورسٹی کالج لندن کے محقیقین نے 28 تجزیاتی پیپرز کا مطالعہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسپتال آنے والے کورونا مریضوں میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کا تناسب اندازوں سے بہت کم تھا۔
https://bit.ly/3bpLE5p

پبلک ہیلتھ کے ایک پروفیسر نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو نوشی اور کورونا وائرس میں کوئی غیرمرعی معاملہ ہے اور اس حیرت انگیز معاملے کے سامنے آنے کے بعد سائنسدان اس کا پتہ لگانے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔
برطانیہ میں کیے گئے ایک مطالعہ سے معلوم ہوا کہ وہاں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے جو مریض اسپتالوں میں لائے گئے ان میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کا تناسب صرف پانچ فیصد تھا، جو کہ ملک میں سگریٹ نوشی کرنے والے ساڑھے چودہ فیصد کا صرف ایک تہائی تھے۔
فرانس میں تو یہ تعداد چار گنا کم تھی جبکہ چین میں کی گئی ایسی ہی تحقیق میں یہ تعداد کل مریضوں کا 3 اعشاریہ 8 فیصد تھا، یاد رہے کہ چین کی آدھی سے زیادہ آبادی پابندی سے سگریٹ نوشی کرتی ہے۔
اس تجزیاتی تحقیق میں دو پیپرز ایسے بھی تھے جن میں بتایا گیا تھا کہ سگریٹ نوشوں میں وائرس کی تشخیص ہوتی ہے تو امکان یہ ہوتا ہے کہ یہ بہت زیادہ بیمار ہونگے اور انھیں وینٹی لیٹشن کی ضرورت پڑے گی۔
البتہ تحقیق کاروں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ غالباً اسپتال مریضوں کی سگریٹ نوشی کرنے کے معاملے کو مناسب طریقے سے ریکارڈ نہیں کررہے ہیں، اور امکانی طور پر اسکی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اسپتال بہت زیادہ مصروف ہیں، مریض اس قدر بیمار اور لاغر ہوجاتے ہیں کہ وہ جواب دے نہیں پاتے یا پھر لوگ جھوٹے جوابات بھی دیتے ہیں۔
https://bit.ly/3bpLE5p

اب تحقیق کار معاملے کا پتہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کیا سگریٹ نوشی اور کورونا میں کوئی ایسا معاملہ ہے کہ یہ سگریٹ نوش مریضوں پر وائرس اتنے شدید اثرات مرتب نہیں کررہا جتنے کہ یہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد پر کررہا ہے۔
اس سے پہلے گزشتہ ماہ پانچ تحقیق میں بھی بالکل ایسے ہی نتائج سامنے آئے تھے، بظاہر سگریٹ نوشی اس حوالے سے خطرناک ہوسکتی ہے لیکن سگریٹ نوش مریضوں پر وائرس کے حملے زیادہ مہلک نظر نہیں آئے۔


Comments