تیل کی قیمتیں منفی


https://bit.ly/3bpLE5p


حالیہ تاریخ میں دنیا پر ایسی افتاد نہ پڑی تھی جو اس وقت کورونا کی صورت 
میں پوری دنیا کو کم و بیش مفلوج کئے ہوئے ہے اور ہنوز اس کے ٹلنے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ۔ روزانہ سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد بھی روز افزوں ہے۔ چند ماہ کے دوران اس دنیا میں جو خود کو ہمہ قسم کی ترقی کی معراج پر خیال کر رہی تھی، کورونا کے باعث ایک لاکھ 70ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد قریباً 25لاکھ بتائی جا رہی ہے۔ دریں حالات دنیا کی معیشت بھی بدترین مندی کا شکار دکھائی دے رہی ہے، اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ امریکی خام تیل کی تاریخ میں پہلی بار منفی سطح پر چلی گئی ہے جس کے بعد وال اسٹریٹ میں بھی شدید مندی کا رجحان ہے۔

 غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس 
انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) مئی کی ڈلیوری کے لئے منفی 37.63ڈالر فی بیرل کی سطح پر بند ہوا یعنی خام تیل کے فروخت کنندہ خریدار کو تیل کے ساتھ ساتھ 37.63ڈالر فی بیرل دینے پر مجبور ہو گئے۔ تیل کی کھپت میں کمی کی بنیادی وجہ دنیا بھر میں ہونے والا لاک ڈائون بنا۔ امریکہ کے پاس اب مزید تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں رہی چنانچہ حالات اس نہج پر آ گئے۔

 عصرِ حاضر میں تیل کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں تاہم دنیا پر ٹوٹنے والی کورونا کی آفت نے پوری دنیا کی معیشت تلپٹ کر کے رکھ دی ہے ورنہ پاکستان جیسے ممالک تیل خرید کر اسٹور کر سکتے تھے لیکن یہاں بھی کورونا کے باعث حالات دگرگوں ہیں۔ پاکستان کو ان حالات میں اگر موقع ملے تو اسے اسی قیمت پر تیل خرید کر اپنے ذخائر بھر لینے چاہئیں کہ بعد ازاں تجارتی خسارہ برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بحران اپنے اندر بہت سے مواقع بھی رکھتے ہیں، جن سے فائدہ اٹھانا ہی دانشمندی ہے۔

Comments